ملتان کی ڈائری۔ چھاپیے ای میل
اعجازالحق( بیوروچیف ملتان)

٭فیس بک پر گستاخانہ خاکوں کے شرانگیز مقابلے اور حکمرانان ملت اسلامیہ کی ذمہ داریاں

٭پی پی 206 ملتان کا انتحابی معرکہ،فیصلہ عوام کا ہوگا

٭مسلم لیگ (ن) ملتان میں دو واضح دھڑوں میں تقسیم
ڈنمارک،ناروے اور سویڈن کے اخبارات میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے توہین آمیز خاکے بنانے کی ناپاک جسارت پر امت مسلمہ کا احتجاج ابھی جاری تھا کہ معلونہ مولی نورس کی طرف سے فیس بک پر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے توہین آمیز خاکے بنانے کا عالمی مقابلہ منعقد کروانے پر پوری امت مسلمہ میں غم وغصے کی لہر ڈور گئی۔عوام میں غم اور غصے کی اس نئی لہر کر دیکھتے ہوئے حکومت نے لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر فیس بک،یوٹیوب اور اسی نوعیت کی 800 سے زائد ویب سائٹس کے لنک بلاک کردئیے
ملک بھر کی طرح ملتان میں بھی فرزندان اسلام محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سچے عشق کا ثبوت دیتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور انٹرنیٹ پر گستاخانہ خاکوں کے شرانگیز مقابلے کے خلاف بھر پور احتجاج ریکارڈ کروایا۔وکلاء،طلباء،اساتذہ،تاجر،علماء غرض ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کا اس سلسلے میں شدید ردعمل سامنے آیا۔گزشتہ دنوں تحریک حرمت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پاکستان،جماعت اسلامی،جماعت الدعوۃ،جماعت اہلسنت،تحریک مہناج القرآن،تنظیم اسلامی،سنی تحریک،مرکزی جمعیت اہلحدیث ،تحریک جعفریہ،جمعیت علماء اسلام کے علاوہ طلباء،اساتذہ،وکلاء تاجر تنظیموں کی طرف سے بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔تحریک حرمت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پاکستان کی اپیل پر ملتان سمیت پورے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے،امریکہ ،ڈنمارک اور ناروے کے قومی پرچم جلائے گئے۔گزشتہ اورگزشتہ سے پیوستہ جمعہ کے روز خطبات جمعہ میں اس دلخراش موضوع پر تقاریر کی گئيں ،قراردادیں منظور کی گئیں جن میں مغرب کی ان اسلام دشمن پالیسیوں اور سازشوں کا متحد ہوکراور ڈٹ کر مقابلہ کرنے اور امت مسلمہ کے جذبات مجروع کرنےوالے تمام ہتھکنڈوں اور حربوں کا منہ توڑ جواب دینے پر زور دیاگیا۔اس موقع پر جہاں اہلیان پاکستان اور پوری دنیا کے مسلمانوں نے بھر پور ردعمل ظاہر کیاوہاں حکمرانان ملت اسلامیہ کی بھی کچھ ذمہ داریاں بنتی ہیں پاکستان سمیت 56 اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو کمزور احتجاج کے بجائے دلآزار خاکوں کی اشاعت کے خلاف عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے متعلقہ حکومتوں سے احتجاج کرنا چاہیے نیز اقوام متحدہ سے ان گستاخانہ حرکت کے مرتکب افراد کو سزا کے لیے مستقل قانون بنوانا چاہیے۔
پی پی 206 تحصیل جلالپورپیروالا ملتان جہاں ضمنی انتحاب 5 جون کو ہورہے ہیں انتحابی سرگرمیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔حلقہ میں ایک طرف پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوارصوبائی اسمبلی اور وزیراعظم کے بھائی سید احمد مجتبی گیلانی ہیں جنہیں علاقہ کے تمام جاگیرداروں،سیاستدانوں اور برادریوں کی حمایت حاصل ہےجبکہ دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ (ن)کی امیدوار نغمہ مشتاق لانگ ہیں جنہیں حلقہ کی عوام کی کثیر تعدادمیں حمایت حاصل ہے۔5جون کو دونوں امیدواروں کے درمیان زبردست مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔پیپلزپارٹی کے حامیوں کا کہنا ہےکہ اگر وزیراعظم اس حلقہ میں جلسہ عام سے خطاب کرلیں تو ان کے امیدوار کی جیت یقننی ہےجبکہ نعمہ مشتاق لانگ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جلالپور کی عوام امپورٹڈ امیدوار قبول نہیں کریں گے ۔ادھر کچھ افراد جن کا تعلق ق لیگ سے ہے ان کا کہنا ہے کہ ن لیگ اپنی امیدوار کے ساتھ دھوکہ کررہے ہیں اس حوالے سےگزشتہ دنوں سابق وفاقی وزیراور گیلانی برادران کے پرانے حریف سکندربوسن کا بیان سامنے آیا ۔ان کا کہنا ہے کہ چند روز قبل نغمہ مشتاق لانگ کی انتحابی مہم کے سلسلہ میں ملتان کے دورہ پر آئے ہوئےحمزہ شہبازشریف جلالپور صرف اس لیے نہیں جاسکے کہ انہیں وزیراعظم کے صاحبزادے اور ایم پی اے عبدالقادرگیلانی نے فون کرکے اس سلسلے میں اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔اس بات کا فیصلہ کہ ضمنی الیکشن میں مقابلہ کس کے ہاتھ جائے گا حلقہ کی عوام کو کرنا ہے ۔شریف برادران کی طرف سے ایم این اےرانا محمودالحسن کو نغمہ مشتاق لانگ کی انتحابی مہم کا انچارج مقرر کرکےمسلم لیگ (ن) کے مرکزی نائب صدر مخدوم جاوید ہاشمی کو ایک بار پھر نظراندازکردیا گیا اس سے ملتان کے سیاسی،سماجی،صحافتی اور لیگی حلقوں میں خاصی بے چینی پائی جاتی ہے

مسلم لیگ (ن) ملتان میں خاصے عرصے سے گروپ بندیوں کا شکار نظر آرہی ہے گزشتہ روز ملتان میں حمزہ شہبازشریف،راناثناءاللہ اور دوسرے لیگی راہنماوں کی موجودگی میں یوم خواتین کے موقع پرواضح دھڑےبندی دیکھنے میں آئی ۔جب دونوں دھڑوں نے ملتان میں یوم خواتین کے موقع پر علیحدہ علیحدہ تقریبات منعقد کیں۔ایک دھڑے نے اپنی تقریب ملتان آرٹس کونسل میں منعقد کی جبکہ دوسرے دھڑے نے اپنی تقریب رضا ہال میں منعقد کی۔اس موقع پر حمزہ شہبازشریف اور دوسری لیگی قیادت نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ شریف برادران اور دوسری لیگی قیادت فوری طور پر مقامی سطح پر پارٹی کے اندر جھگڑے ختم کرائیں تاکہ مسلم لیگ ن جو ملتان شہر کی مقبول ترین جماعت ہے کے لیے آئندہ عام انتحابات پریشانی کا سبب نہ بنیں۔
 
 

آن لائن

ہمارے ہاں 13 مہمان آن لائن ہیں
بینر
بینر
بینر
بینر
بینر
بینر