خزینہ رحمت :آئےی ہم بھی رحمت الہی کے مستحق بنیں پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
تحریر Administrator   
جمعرات, 10 جون 2010 14:15
 محمد طیب معاذ
قارئین کرام! انسان خطاکا پتلا ہے اس سے نادانی میں بہت سی نافرمانیاں صادر ہو جاتی ہیں مگر انسانوں میں سے عقل مند اور سمجھدار انسان اپنی غلطی پر شرمندہ ونادم بھی ہوتا ہے اور توبة النصوح کے بعد اس غلطی کا دوبارہ ارتکاب نہیں کرتا ،جب کوئی گناہ گار آدمی خالص توبہ کرتا ہے تو رحمت الہی اس آدمی کی غلطیوں کو معاف کر دیتی ہے، رحمت الہی کی وسعتوں اور بلندیوں سے ہر مسلمان بخوبی واقف ہے ذیل کی سطور میں ہم ان افعال واعمال کا تذکرہ کریں گے جن کو بجالالنے سے ہم رحمت الہی کے مستحق بن سکتے ہیں: اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہمہ وقت اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے۔ آمین
۱- اطاعت محمدی واطاعت خداوندی: 
رب اقدس کی فرمانبرداری اور رسول معظم  کی تابعداری کرنے والارحمت الہی کا مستحق بن جاتا ہے :
دلیل: ﴾وَاطِیعُوا اللَّہَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّکُمتُرحَمُونَ ﴿ (آل عمران: ۲۳۱)
”اور اللہ اور اس کے رسول  کی تابعداری کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے“
۲۔ تقوی شعاری ، زکوٰة کی ادائیگی ، آیات ربانیہ پر یقین محکم ، رسول معظم کی کامل اتباع کرنا: 
دلیل: ﴾وَرَحمَتِی وَسِعَت کُلَّ شَیءٍ فَسَاکتُبُہَا لِلَّذِینَ یَتَّقُونَ وَیُتُونَ الزَّکَاةَ وَالَّذِینَ ہُم بِآَیَاتِنَا یُمِنُونَ ٭ الَّذِینَ یَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِیَّ المِّیَّ﴿ (الاعراف : ۶۵۱، ۷۵۱)
”اور میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے ۔ چنانچہ جلد ہی میں اس (رحمت) کو ان لوگوں کیلئے لکھ دوں گا جو تقوی شعار ہیں ، زکوة دیتے ہیں اور (ان کیلئے بھی ) جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں اور وہ لوگ جو رسول امی نبی (محمد ) کی پیروی کرتے ہیں “
۳۔عبادت کرتے وقت درجہ احسان کو حاصل کرنا:
درجہ احسان سے مراد یہ ہے کہ اللہ کی عبادت اس طرح کی جائے گویا کہ ہم اسے دیکھ رہے ہیں گر یہ ممکن نہیں توکم از کم یہ احساس تو ہو کہ وہ (اللہ )ہمیں دیکھ رہا ہے۔
دلیل: ﴾نَّ رَحمَةَ اللَّہِ قَرِیبمِنَ المُحسِنِینَ﴿ (الاعراف: ۶۵)
”بے شک اللہ کی رحمت محسنین کے قریب ہے “
۴۔ راہ جہاد میں شہادت کے مرتبہ پر فائز ہونا:
دلیل: ﴾وَلَئِن قُتِلتُم فِی سَبِیلِ اللَّہِ او مُتُّم لَمَغفِرَةمِنَ اللَّہِ وَرَحمَة خَرمِمَّا یَجمَعُونَ ﴿
 (آل عمران : ۷۵۱)
”اور اگر تم اللہ کی راہ میں شہید ہو جاﺅ یا مر جاﺅ تو اللہ کی بخشش اور رحمت ان چیزوں سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں “
۵۔ تلاوت قرآن کے وقت خاموشی اختیار کرنا اور اسے غور سے سننا:
دلیل: ﴾وَذَا قُرِئَ القُرآَنُ فَاستَمِعُوا لَہُ وَانصِتُوا لَعَلَّکُم تُرحَمُونَ﴿ (الاعراف: ۴۰۲)
”اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم رحمت الہیہ کے مستحق بن سکو“
۶۔کثرت سے استغفار کرنا:
دلیل: ﴾َوتَستَغفِرُونَ اللَّہَ لَعَلَّکُمتُرحَمُونَ﴿ (النمل: ۶۴)
”(تعجب ہے )تم اللہ سے مغفرت طلب کیوں نہیں کرتے تاکہ اس کی رحمت تمہارے لیے خاص ہوجائے “
۷۔ مسلمانوں کے باہمی تنازعات میں ان کے درمیان صلح کروانے کیلئے کوشش کرنا:
دلیل :﴾فَاصلِحُوا بَینَ اخَوَیکُموَاتَّقُوا اللَّہَ لَعَلَّکُمتُرحَمُونَ ﴿ (الحجرات: ۰۱) 
”تم اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کروا دو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے “
۸۔اللہ کے عذاب سے ڈرنا خواہ اس کا تعلق دنیا سے ہو یا آخرت سے 
دلیل : ﴾ان جَاءَکُم ذِکر مِن رَبِّکُم عَلَی رَجُلٍ مِنکُم لِیُنذِرَکُم وَلِتَتَّقُوا وَلَعَلَّکُم تُحَمُونَ﴿ 
(الاعراف: ۳۶)
”تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسے آدمی کے ذریعے سے نصیحت آگئی جو تم میں سے ہے تاکہ وہ تمہیں (عذاب الہی سے) ڈرائے اور تاکہ تم (اس عذاب سے )ڈر جاﺅاس کے بدلے میں تم پر رحم کیا جائے گا“
۹۔مصائب پر صبروتحمل سے کام لینا: 
دلیل: ﴾اولَئِکَ عَلَیہِم صَلَوَات مِن رَبِّہِم وَرَحمَة وَاولَئِکَ ہُمُ المُہتَدُونَ ﴿ (البقرہ:۷۵۱)
”یہی لوگ ہیں (مراد صابرین)جن کیلئے ان کے رب کی طرف سے بخشش اور (خاص) رحمت کا نزول ہوتاہے اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں “
۰۱۔ ایمان باللہ ، ہجرت فی سبیل اللہ اور جہاد فی سبیل اللہ کو بجا لانا:
دلیل: ﴾نَّ الَّذِینَ آَمَنُوا وَالَّذِینَ ہَاجَرُوا وَجَاہَدُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ اولَئِکَ یَرجُونَ رَحمَةَ اللَّہِ وَاللَّہُ غَفُوررَحِیم﴿(البقرہ : ۸۱۲)
”بے شک رحمت الہیہ کے امیدوار وہی لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان لائے ،جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں علم جہاد بلند کیا اللہ بہت زیادہ بخشنے والا اور بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے “
۱۱- لوگوں کے ساتھ شفقت کے ساتھ پیش آنا:
لوگوں کے ساتھ شفقت کے ساتھ پیش آنے والے شخص کو رسول عربی ﷺ نے رحمت الہی کی خوشخبری دی 
دلیل: عَن عَبدِ اللَّہِ بنِ عَمرٍو یَبلُغُ بِہِ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہ عَلَیہِ وَسَلَّمَ: الرَّاحِمُونَ یَرحَمُہُمُ الرَّحمَنُ ارحَمُوا اہلَ الارضِ یَرحَمکُم مَن فِی السَّمَاءِ ۔
جیسا کہ سنن ابی داﺅد میں سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے منقول ہے کہ رسول رحمت  نے ارشاد فرمایا: رحم کرنے والوں پر رحمن (اللہ) رحم کرتا ہے تم اہل زمین پر رحم کرو آسمان والا (اللہ تعالیٰ) تم پر رحم کرے گا ۔ جبکہ مسند احمدمیں ارشاد گرامی قدر ہے: ارحموا ترحموا .... رحم کرو تاکہ اس کے بدلے میں تم پر رحم کیا جائے۔
۲۱۔ مریض کی عیادت: 
مریض کی عیادت کرنے والا خوش بخت رحمت الہیٰ کا مستحق بن جاتا ہے ، 
دلیل : Êِذَا عَادَ الرَّجُلُ ا¿َخَاہُ ال±مُس±لِمَ مَشَی فِی خِرَافَةِ ال±جَنَّةِ حَتَّی یَج±لِسَ فَÊِذَا جَلَسَ غَمَرَت±ہُ الرَّح±مَةُ فَÊِن± کَانَ غُد±وَةً صَلَّی عَلَی±ہِ سَب±عُونَ ا¿َل±فَ مَلَکٍ حَتَّی یُم±سِیَ وَÊِن± کَانَ مَسَاءً صَلَّی عَلَی±ہِ سَب±عُونَ ا¿َل±فَ مَلَکٍ حَتَّی یُص±بِحَ ۔ (احمد)
ترجمہ: رسول رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ جو شخص کسی مریض کی عیادت کرتا ہے تووہ گویا جنت کے باغوں میں چل رہا ہوتاہے اور جب وہ مریض کے پاس بیٹھ جاتاہے تو اس کو رب کی رحمت ڈھانپ لیتی ہے اگر مریض کی عیادت کے لیے صبح کے وقت جائے تو شام تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں اور طرح شام کے وقت عیادت کرے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعا میں مصروف رہتے ہیں ۔
۳۱-مسجد میں بیٹھ کر نماز کا انتظارکرنا:
مسجد میں بیٹھ کر نماز کا منتظر شخص رب کی رحمتوں کو سمیٹ رہا ہوتا ہے۔
دلیل : المَلَائِکُةُ تُصَلِّی´ عَلَی ا¿حَدِکُم´ مَادَامَ فِی´ مُصَلَّاہُ الَّذِی´ صَلَّی فِی´ہ ِ مَا لَم´ یَح´دُث اَللَّھُم صَلِّ عَلَیہِ وَار´حَمہُ۔(بخاری ومسلم)
”رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: جب کوئی آدمی مسجد میں نماز کا انتظار کرتا ہے تو فر شتے اس کےلئے اس وقت تک رحمت الہی مانگتے رہتے ہیں جب تک کہ اس کا وضو ٹوٹ نہ جائے فرشتے دعا کرتے ہیں : اے ہمارے رب اس کو بخش دے اس پر اپنی رحمت نازل فرما۔“
۴۱۔ اہل علم کی مجالس اور حلقات قرآنیہ میں شرکت کرنے والا:
اہل علم کی مجالس اور حلقات قرآنیہ میں شرکت کرنے والا آدمی رحمت الہی کو حاصل کرتا ہے ۔
دلیل: مااجمتع قوم فی بیت من بیوت اللہ یتلون کتاب اللہ ویتدارسونہ بینہم الا حفتہم الملائکة وغشیتہم الرحمة وذکرھم اللہ فیمن عندہ (مسلم)
” سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی قوم (گروہ یا جماعت) مسجد میں بیٹھ کر قرآن کی تلاوت کرتی ہے اور اس کو آپس میں ایک دوسرے کو سکھاتی ہے تو اس قوم پرسکینت نازل ہوتی ہے رحمت الہی ایسی قوم کو ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے اپنے پر ان پر پھیلا دیتے ہیں اور عرش بریں پر اللہ ان لوگوں کا تذکرہ کرتا ہے “
۵۱- نماز تہجد کی پابندی کرنے والا:
نماز تہجد کی پابندی کرنے والاخوش نصیب انسان جب اپنی بیوی کو نماز تہجد کے لئے اٹھاتا ہے یا نیک بیوی اپنے خاوند کو تہجد کے لئے بیدار کرتی ہے تو رب کی رحمتیں اس جوڑے پر نازل ہو تی ہیں ۔
دلیل: عَن ابِی ہُرَیرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہ عَلَیہِ وَسَلَّمَ رَحِمَ اللَّہُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّیلِ فَصَلَّی ثُمَّ ایقَظَ امرَاتَہُ فَصَلَّتفن ابَت نَضَحَ فِی وَجہِہَا المَاءَ وَرَحِمَ اللَّہُ امرَاةً قَامَت مِنَ اللَّیلِ فَصَلَّت ثُمَّ ایقَظَت زَوجَہَا فَصَلَّی فن ابَی نَضَحت´ (احمد)
” رسول رحمت  فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس شخص پراپنی رحمتیں نازل کرتا ہے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھتا ہے اور اپنی بیوی کو اٹھاتا ہے اگر وہ سستی دکھائے تو اس پر پانی کے چھینٹے مارتا ہے “
اسی طرح اللہ رب العزت اس نیک عورت پر بھی رحمتیں نازل کرے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھتی ہے اپنے خاوندکو اٹھاتی ہے اور وہ سستی کرے تو اس کو پانی کے چھینٹے مار کر بیدار کرتی ہے ۔
۶۱- اچھی بات کرنے والا چغلی ،غیبت ، جھوٹ بہتان سے باز رہنے والا خوش قسمت آدمی بھی رحمت الہی کا مستحق ہے ۔ 
دلیل: رَحِمَ اللّٰہُ ام´رَءاً تَکَلَّمَ فَغَنِمَ او سَکَتَ فَسَلِمَ (البیہقی ، شعب الایمان ،باسناد حسن: ۲۱۲/۹)
”رسول رحمت  نے فرمایا: اللہ رب العزت اس شخص پر رحم کرتا ہے جو اچھی بات کہتا ہے اور نفع حاصل کرتا ہے اور بری بات سے خاموش رہ کر اپنے نفس کو بچا لیتاہے “
۷۱- حج وعمرہ میں سر منڈوانے والا یا بال کٹوانے والا :
حج وعمرہ میں سر منڈوانے والا یا بال کٹوانے والا خوش بخت بھی رحمت الہیٰ کا مستحق بن جاتا ہے ۔
دلیل: عَن عَبدِاللَّہِ بنِ عُمَرَ رَضِی اللَّہ عَنہمَا انَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہ عَلَیہِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّہُمَّ ارحَمِ المُحَلِّقِینَ قَالُوا وَالمُقَصِّرِینَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ اللَّہُمَّ ارحَمِ المُحَلِّقِینَ قَالُوا وَالمُقَصِّرِینَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ وَالمُقَصِّرِینَ 
(مسلم)
” رسول کریم  نے ارشاد فرمایا: کہ اے الہی !سر منڈانے والوں پر رحم فرما ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول  بال کتروانے والے ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”والمقصرین“ الہی بال کتروانے والوں پر بھی رحم فرما۔
۸۱-نماز عصر سے پہلے چار رکعت نفل ادا کرنا:
نماز عصر سے پہلے چار رکعت نفل پڑھنے والے خوش نصیب پر رب کی رحمتیں سایہ فگن رہتی ہیں ۔ 
دلیل: عَنِ ابنِ عُمَرَرضی اللہ عنہ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہم عَلَیہِ وَسَلَّمَ رَحِمَ اللَّہُ امرَا صَلَّی قَبلَ العَصرِ اربَعًا (مسند احمد ، سنن الترمذی)
رسول مکرم  نے ارشاد فرمایا: اللہ اس شخص پر رحم فرمائے جس نے نماز عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں۔
۹۱۔ خرید وفروخت کرتے وقت نرمی سے کام لینا :
خرید وفروخت کرتے وقت فیاضی اور نرمی برتنے والے تاجر کےلئے رسول اکرم  نے رحمتوں کے نزول کی دعا فرمائی ہے ۔
دلیل: عَن جَابِرِ بنِ عَبدِاللَّہِ رَضِی اللَّہ عَنہمَا انَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہ عَلَیہِ وَسَلَّمَ قَالَ رَحِمَ اللَّہُ رَجُلًا سَمحًاذَا بَاعَ وَذَا اشتَرَی وذَا اقتَضَی(بخاری)
”رسول اللہ  نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحمتیں نازل فرمائے جو خرید وفروخت اور قرض کے تقاضے کے وقت نرمی برتتا ہے “
۰۲۔ صبح وشام کثرت سے ذکر الہی میں مشغول رہنا :
دلیل : ولا تغفلن فتنسین الرحمة (ترمذی)
”اور ذکر الہی سے غافل نہ رہ وگرنہ رب کی رحمتیں منہ موڑ لیں گی“
قارئین کرام ! ضرورت اس بات کی ہے ہم ان مذکورہ بالا کنجیوں کو استعمال کریںاور ان اعمال واقوال کو بجا لائیں تاکہ رحمت الہٰی کے خزانوں سے حظ وخیر حاصل کرسکیں ۔ 
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی رحمتوں کامستحق بنائے ۔ آمین۔ 
(اردو استفادہ از : مفاتیح رحمت اللہ لمحمد بن عبد اللہ الھبدان۔ ۲۔ الفوائد: لشیخ ابی محمد ، ج: ۲ ۔ جزاہم اللہ خیرا)


آخری تازہ کاری بوقت جمعرات, 10 جون 2010 14:36
 
 

آن لائن

ہمارے ہاں 7 مہمان آن لائن ہیں
بینر
بینر
بینر
بینر
بینر
بینر