اعجازالحق( بیوروچیف ملتان)٭اسرائیلی جارحیت کے خلاف تمام مسلم ممالک متفقہ کرداراداکریں
٭نواز شریف کا دوٹوک موقف،جعلی ڈگری کےحامل لیگی ارکان اسمبلی کی مشکلات بڑھ گئیں۔
٭نواب حیات اللہ ترین کا استعفیٰ،خطے کا سیاسی موسم ایک بار پھر گرم ہوگیا
٭جماعت اسلامی کے زیراہتمام ملتان میں بیداری عوام مہم کا آغاز

برادراسلامی ملک ترکی کی طرف سے غزہ کے محصورفلسطینیوں کے لیے بھیجے جانے والے امدادی قافلے فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی دہشت گردی نے امت مسلمہ کو شدید غم و غصے اور اضطراب میں مبتلا کردیا ہے۔اسرائیلی جارحیت کے خلاف ملک بھر کی طرح اہلیان ملتان کا بھی شدید ردعمل سامنے آیا۔ملتان میں ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف شدیدردعمل کا اظہار کیا۔متحدہ شہری محاذ،مجلس شہریان،متحدہ مسلم موومنٹ ،مسلم لیگ ن،جماعت اسلامی،پیپلزپارٹی،جے یو آئی،جماعۃ الدعوۃ سمیت تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں اور سماجی و فلاحی تنظیموں نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف مظاہرے کیے۔مظاہرین نے اسرائیل کو عالمی امن کے لیے خطرہ قراردیا۔گزشتہ روز بھی متحدہ شہری محاذ کے زیراہتمام فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیےچوک گھنٹہ گھر سے چوک کچہری تک ریلی نکالی گئی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان سمیت امت مسلمہ فلسطینیوں کی امداد کے ساتھ ان کا مسئلہ حل کرنے کے لیے اقدامات کرے۔فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی دہشت گردی اور اس پر بھی اسلامی ممالک کے بے حس لیڈران کی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔ایسے میں برادراسلامی ملک ترکی کا کردار قابل تحسین ہے۔طیب اردگان اسرائیلی جارحیت کے خلاف پوری امت مسلمہ کی طرف سے قائدانہ کرداد اداکرتے ہوئے ابھرے۔جماعۃالدعوۃ نے اچھا آغازکیا ناصر باغ سے پنجاب اسمبلی تک تاریخی تحفظ قبلہ اول کارواں نکال کرایک طرف تو مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیا جبکہ دوسری طرف اس کارواں سے عرب میڈیا اوربالخصوص فلسطینیوں کا پاکستان کے بارے میں تاثر بہتر کرنے میں مدد ملے گی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ برادر اسلامی ملک ترکی کی طرح حکومت پاکستان کو بھی جرات مندانہ کرداراداکرنا چاہیے اورپاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا کے تمام اسلامی ممالک کو اسرائیلی جارحیت کے خلاف متفقہ کرداراداکرنا چاہیے۔

مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف نے کہا کہ جعلی ڈگری والے ارکان اسمبلی خود مستعفیٰ ہوجائیں اور اپنے آپ کو شرمندگی سے بچائیں۔آئندہ انہیں کسی الیکشن کے لیے ٹکٹ نہیں دیا جائے گا ۔سپریم کورٹ کی جانب سے جعلی ڈگری ہولڈرلیگی ایم پی اے کے خلاف مقدمہ کے اندراج کے حکم اور ن لیگ کی مرکزی قیادت کی جانب سے جعلی ڈگری ہولڈروں کو مستعفیٰ ہونے کی ہدایت کے بعد جعلی ڈگری کے حامل لیگی ارکان اسمبلی کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ملتان میں ن لیگ سے تعلق رکھنے والے ایک صوباِئی وزیر حاجی احسان الدین قریشی،اور دو اراکین صوبائی اسمبلی عامرسعیدانصاری ،چوہدری عبدالوحیدآرائیں ان دنوں جعلی ڈگریوں کے الزامات کی زد میں ہیں۔ان میں سے صوبائی وزیر مذہبی امور حاجی احسان الدین قریشی اور ایم پی اے میاں عامر سعیدانصاری کی اہلیت تو عدالت میں بھی چیلنج ہوچکی ہے۔ن لیگ کے صوبائی وزیر اور ارکان اسمبلی کی ڈگریوں کے بارے میں سیاسی حلقوں میں چہ میگوئیاں ہوتی رہی ہیں۔ادھر بعض ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ اراکین اسمبلی نے پارٹی قیادت کی ہدایت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے قریبی دوستوں اور عزیزواقارب سے صلاح مشورے شروع کردئیے ہیں۔ان اراکین اسمبلی کے خلاف عدالتی فیصلے یا استعفیٰ کی صورت میں ملتان شہرکے تین صوبائی حلقے پی پی 195,196,197 میں ممبران صوبائی اسمبلی کی نشستیں خالی ہوجاِئیں گی۔

جنوبی پنجاب کے ضلع لودھراں میں این اے 155 سے نواب حیات اللہ ترین کے استعفیٰ کے بعدخطے کا سیاسی موسم ایک بار پھر گرم ہوگیا ہے۔پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے مذکورہ ایم این اے کے خلاف مسلم لیگ ن کے ضلعی صدر چوہدری محمد نصیب گجر نے لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ میں رٹ درخواست دائر کی تھی کہ نواب حیات اللہ خان کی بی اے کی ڈگری جعلی ہے لیکن مذکورہ ایم این اے نے عدالتی فیصلے سے قبل ہی وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی اور ان کی مشاورت سے استعفیٰ دے دیا جسے سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے بھی منظور کرلیا اور 15 جون سے یہ نشست خالی قراردی گئی۔قبل ازیں نواب حیات اللہ خان ترین نے وزیراعظم سے ملاقات کی۔وزیراعظم نے انہیں ضمنی انتحاب میں دوبارہ پارٹی ٹکٹ دینے کی یقین دہانی کرائی۔حیات اللہ ترین کے استعفیٰ پر مسلم لیگ ن نےضلع بھر میں جشن منایا۔مٹھائیاں تقسیم کی گِئیں اور کارکنوں نے بھنگڑے ڈالے۔اس کے ساتھ ہی حلقہ میں سیاسی سرگرمیوں کا آغاز ہوچکا ہے۔سیاسی گروپوں نے اپنی اپنی حکمت عملی ترتیب دینا شروع کردی ہے۔پیپلز پارٹی نے بھی پلان مرتب کرلیا ہے جبکہ نواب حیات اللہ ترین کی انتحابی مہم چلانے کے لیے وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف،سیدنویدقمر اور پیپلزپارٹی کی سیکرٹری اطلاعات فوزیہ وہاب کی قیادت میں ٹیم مقرر کردی گئی ہے ۔وزیراعظم یوسف رضا گیلانی بھی عنقریب حلقہ میں شامل دونوں تحصیلوں دنیا پور اور کہڑوڑپکا میں الگ الگ انتحابی جلسوں سے خطاب کریں گے ۔اسی طرح وفاقی وزیر سیدحامد سعید کاظمی جن کے مریدین اس حلقہ میں بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں اور ان کے نواب حیات اللہ ترین سے ذاتی مراسم بھی ہیں کے حلقہ میں دوروں کا انتظام کیا جائے گا۔وزیراعظم کے کہنے پر پیپلزپارٹی ضلع لودھراں کے صدر مرزا ناصر بیگ جنہوں نے فروری 2008 کے عام انتحابات میں اندرون خانہ نواب حیات اللہ ترین کی مخالفت کی تھی اب وزیراعظم سے نواب حیات اللہ ترین کی الیکشن مہم میں بھر پور حصہ لینے کا وعدہ کیا ہے۔وزیراعظم کی طرف سے نواب حیات اللہ خان ترین کو پارٹی ٹکٹ دلوانے کی یقین دہانی کے بعد مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کے حصول کے لیے کئی خواہش مند میدان میدان میں اتر آئے ہیں ۔اس سلسلے میں مسلم لیگ ن کی طرف سے اختر خان کانجو متوقع امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔اختر خان کانجو ق لیگ کے دور حکومت میں ق لیگ کے رکن قومی اسمبلی تھے۔بطور رکن اسمبلی انہوں نے سابق وزیراعظم شوکت عزیز سے اپنے حلقہ کے لیے خصوصی فنڈزمنظور کروائے۔بعد ازاں ق لیگ کی حکومت کے اختتام سے قبل ہی ن لیگ میں شامل ہوگئے۔مسلم لیگ چونکہ میثاق جمہوریت کے تحت اپنا امیدوار کھڑانہیں کرسکتی لیکن اختر خان خانجو کا کہنا ہے کہ وہ الیکشن میں ضرور حصہ لیں گے اور ان کی پارٹی ان کی مکمل حمایت کرے گی۔ادھر اختر خان کانجو کے بھانجے اور سیاسی حریف سابق ضلع ناظم عبدالرحمن کانجو بھی ق لیگ کے ٹکٹ کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔حلقہ میں اپنے والد سابق وزیرخارجہ صدیق خان کانجو شہید کی مقبولیت کی وجہ سے خاصی اثرورسوخ رکھتے ہیں ۔دیگر متوقع امیدواران میں رانا سہیل نون،نواب امان اللہ خان ودیگر شامل ہیں ۔جونہی الیکشن کمیشن کی طرف سے این اے 155 میں ضمنی الیکشن کے انعقاد کے لیےتاریخ کا اعلان کیا جائے گا صورتحال مکمل طور پر واضح ہوجاَئے گی۔

جماعت اسلامی پنجاب کے زیراہتمام ملتان میں دو روزہ بیداری عوام مہم کا آغاز کیا گیا جس کا افتتاح جماعت اسلامی کے مرکزی جنرل سیکرٹری لیاقت بلوچ نے کیا۔بیداری عوام مہم کے تحت مدرسہ جامع العلوم ملتان میں علماء کنوکشن اور علاقائی سطح پر تنظیمی کنوکشن منعقد کیے گئے۔علاوہ ازیں اس سلسلے میں ملتان کے تاجروں ،وکلا سے بھی رابطے کیے گئے۔جماعت اسلامی نے آئندہ عام انتحابات میں اپنے منشور اور جھنڈے کے ساتھ الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کرلیا ہے اور یہ بیداری عوام مہم بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔1970 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ جماعت اسلامی اپنے پلیٹ فارم پر الیکشن میں حصہ لے رہی ہے ۔پارٹی قیادت کی جانب سے لیاقت بلوچ کو ملتان کے شہری حلقہ این اے149 ملتان 2 سے مسلم لیگ ن کے راہنما مخدوم جاوید ہاشمی کے متقابل الیکشن لڑانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ لیاقت بلوچ کی ملتان آمد پر جماعت اسلام ک تمام سرگرمیوں کا مرکز یہی حلقہ رہا اور بیداری عوام مہم کے تمام پروگرام بھی اسی حلقے میں ترتیب دئیے گَئے تھے۔جماعت اسلامی کے ضلعی مرکزمدرسہ جامع العلوم ملتان میں علماء کنوکشن سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ جنوبی پنجاب امن کا گہوارہ ہے اس کے اندر کوئی دہشت گرد نہیں رہتا۔اگر حکمرانوں نے اس علاقے میں آپریشن شروع کیا تو علماءمتحد ہوکراسکا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔