|
پیر, 19 جولائی 2010 10:43 |
 حامد میر ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے۔ شاہ محمود قریشی اور ایس ایم کرشنا نے بھی بہت کوشش کی کہ 15جولائی کو پاک بھارت تعلقات میں بہتری کیلئے ایک نئے نکتہ آغاز میں بدل دیں لیکن شاید یہ دونوں کے اختیار میں نہ تھا۔ ایس ایم کرشنا کے ہمراہ پاکستان آنے والے ایک سینئر بھارتی صحافی شراون گرگ نے دونوں ممالک کی مشترکہ پریس کانفرنس سے بہت پہلے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر مجھے بتا دیا تھا کہ شاہ محمود قریشی اور کرشنا جی میں مذاکرات کے ایجنڈے پر اتفاق رائے نہیں ہوگا۔ میں نے پوچھا کہ اتفاق رائے کیوں نہیں ہوگا؟ گرگ صاحب نے کہا کہ ہم 14جولائی کو پاکستان پہنچے تو پتہ چلا کہ 14جولائی کی صبح ایک بلوچ لیڈر حبیب جالب کو کوئٹہ میں قتل کر دیا گیا ہے۔ ہمیں سمجھ آ گئی کہ مذاکرات میں ہم ممبئی حملوں کے ملزموں کو پاکستان میں سزا دینے کا مطالبہ کریں گے تو آپ کی طرف سے بلوچستان میں بھارتی مداخلت کا راگ الاپا جائیگا اور معاملہ آگے نہیں بڑھے گا۔ میں نے گرگ صاحب سے کہا کہ بلوچستان میں بھارتی مداخلت نے پاکستان میں بھارت کے ساتھ امن کی آشا کیلئے بڑے خطرات پیدا کر دیئے ہیں۔ گرگ صاحب نے جھنجلاہٹ میں کہا ارے چھوڑیئے صاحب، پہلے پاکستان میں ایک پاور سینٹر بنائیے پھر بھارت کے ساتھ مذاکرات کا سوچئے گا ہمیں تو سمجھ ہی نہیں آتی کہ پاور سینٹر کدھر ہے پریذیڈنٹ ہاؤس ہے، پرائم مسٹر ہاؤس ہے یا آرمی چیف ہے؟ گرگ صاحب نے طنزیہ انداز میں کہا کہ چند ماہ قبل آپ مختلف بھارتی ٹی وی چینلز پر بڑے فخریہ انداز میں یہ کہتے سنائی دیتے تھے کہ 18ویں ترمیم کی منظوری کے بعد پاکستان میں جمہوریت مضبوط ہو جائیگی لیکن کیا ہوا؟ 18ویں ترمیم کی منظوری کے بعد جعلی ڈگریوں کے اسکینڈل نے مڈٹرم الیکشن کا راستہ ہموار کر دیا ہے۔ اس لئے بھارت کو تھوڑا سا انتظار کر لینا چاہئے کوئی پتہ نہیں کہ نومبر 2010ء تک شاہ محمود قریشی وزیر خارجہ ہوں یا نہ ہوں؟ گرگ صاحب نے پوچھا کہ نومبر تک جنرل اشفاق پرویز کیانی کی جگہ کوئی دوسرا آرمی چیف آ چکا ہوگا یا کیانی صاحب کو توسیع مل جائیگی؟ میں نے اس سلسلے میں مکمل لاعلمی کا اظہار کیا تو گرگ صاحب نے حیرانی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے آپ کو کچھ پتہ نہ ہو؟ میں ان کا مطلب سمجھ چکا تھا۔ وہ کہنا چاہتے تھے کہ کیانی صاحب نومبر کے بعد بھی آرمی چیف رہے تو پاک بھارت مذاکرات میں مثبت پیش رفت مشکل ہو جائیگی کیونکہ کیانی صاحب کی سوچ جنرل پرویز مشرف کی سوچ سے مختلف ہے۔ میں نے گرگ صاحب کو بہت سمجھانے کی کوشش کی کہ پاکستان کی کوئی سیاسی حکومت مشرف کی طرح پلک جھپکتے میں کشمیر پر یوٹرن نہیں لے سکتی اور آرمی چیف سیاسی حکومت کے تابع ہے لیکن گرگ صاحب نے یہ کہہ کر بات چیت ختم کر دی کہ اگر آپ لوگ کشمیر کشمیر کرتے رہے تو پھر یہ معاملہ نہیں چل سکتا۔ 15جولائی کی شب پاکستان میں بھارتی ہائی کمشنر کی طرف سے ایس ایم کرشنا کے اعزاز میں عشایئے کے پاکستانی شرکاء پاک بھارت مذاکرات کی ناکامی پر کم اور مڈٹرم الیکشن پر زیادہ باتیں کر رہے تھے۔ مسلم لیگ (ق) کی رکن قومی اسمبلی نوشین سعید نے بڑے اعتماد کے ساتھ پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر انور بیگ سے کہا کہ تمہاری حکومت اپنی مدت پوری نہیں کرے گی۔ بیگ صاحب نے بلند آواز میں کہا کہ ہماری حکومت پانچ سال ضرور پورے کرے گی۔ نوشین سعید نے بڑے جارحانہ انداز میں کہا کہ تمہارا صدر خودکش بمبار ہے وہ کسی بھی وقت اپنے ساتھ ساتھ تمہاری حکومت کو بھی اڑا دے گا۔ خودکش بمبار کا ذکر سن کر قریب کھڑی مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی تہمینہ دولتانہ سہم گئیں اور انہوں نے انور بیگ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انور بھائی پلیز آپ مسلم لیگ (ن) میں آ جائیں میں آپ کو زندہ دیکھنا چاہتی ہوں۔ انور بیگ نے مجھے اپنا ہمنوا بنانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ آپ بتائیے کہ کیا ہم خودکش بمبار ہیں؟ میری ہنسی نکل گئی۔ میں نے ہنسی روک کر کہا کہ پاکستان میں کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن یہ جانتا ہوں کہ آپ کی حکومت ختم ہوگئی تو مڈٹرم الیکشن نہیں ہوگا صرف خون خرابہ ہوگا اور خدانخواستہ وہی کچھ ہوگا جو کرغیزستان میں ہوا اس لئے کچھ عرصہ کیلئے آپس میں لڑنا بند کر دیجئے اور مڈٹرم الیکشن کو بھول جائیے۔ بھارتی ہائی کمشنر کے عشایئے میں کئی بھارتی مہمانوں نے مجھے پوچھا کہ پاکستانی میڈیا نے اراکین پارلیمینٹ کی جعلی ڈگریوں کو اتنا بڑا ایشو کیوں بنا رکھا ہے۔ میں نے جواب میں کہا کہ اراکین پارلیمنٹ قانون سازی کرتے ہیں کم از کم قانون بنانے والوں کو جعلی ڈگریوں کا سہارا نہیں لینا چاہئے لیکن یہ بھی درست ہے کہ اس معاملے میں کچھ سیاستدانوں کے ساتھ زیادتی بھی ہوئی ہے۔ مثلاً وفاقی وزیر میراسراراللہ زہری کا کہنا ہے کہ ان کی ڈگری جعلی نہیں ہے البتہ جس ادارے سے انہیں ڈگری جاری ہوئی اس ادارے کی ڈگری کو ہائر ایجوکیشن کمیشن تسلیم نہیں کرتا۔ پنجاب اسمبلی کے رکن ثناء اللہ مستی خیل نے مجھے فون کیا اور کہا کہ وہ جعلی ڈگری ہولڈرز کے محافظ نہیں بلکہ ان کے ناقد ہیں۔ انہوں نے میرے گزشتہ کالموں میں اپنے بارے میں استعمال کئے گئے الفاظ پر شکوہ کیا اور کہا کہ انہوں نے مشرف کی ایوان صدر میں موجودگی میں مسلم لیگ (ق) کو خیرباد کہا تھا لہٰذا انہیں لوٹا کہنا نامناسب تھا۔ میں نے عرض کیا کہ جناب آپ نے بھی تو تمام جرنلسٹوں کو ان جرنیلوں اور ججوں کے ساتھ ملا دیا جنہوں نے پاکستان کا خانہ خراب کیا۔ میری گزارش ہے یہ تھی کہ تمام جرنلسٹ نہ تو جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے ساتھی تھے تمام جرنیل بھی ڈکٹیٹر نہیں تھے اور تمام جج بھی ضمیر فروش نہیں تھے۔ پاکستان میں جنرل اعظم خان جیسے جرنیل بھی آئے جن سے بنگالی اتنی محبت کرتے تھے کہ آج بھی ڈھاکہ میں ان کا نام عزت سے لیا جاتا ہے اور پاکستان میں فخرالدین جی ابراہیم جیسے جج بھی ہیں جنہوں نے کسی پی سی او پر حلف نہیں لیا اور خاور نعیم ہاشمی جیسے جرنلسٹ بھی ہیں جنہوں نے فوجی عدالتوں کے حکم پر کوڑے کھائے۔ ثناء اللہ مستی خیل بار بار کہتے رہے کہ ان کی پیش کردہ قرارداد میں قربانیاں دینے والے صحافیوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور میرا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ قرارداد نہیں بلکہ آپ کی اور آپ کے ساتھیوں کی تقاریر تھیں۔ ان تقاریر میں استعمال کئے گئے قابل اعتراض الفاظ کو حذف کر کے غلط فہمیاں دور کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ بھارت کے ساتھ ہماری غلط فہمیاں دور ہونے کا امکان بہت کم ہے اس کے باوجود ہم بھارت کے ساتھ مذاکرات کیلئے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ بھی مذاکرات کیلئے ہر وقت تیار رہنا چاہئے کیونکہ مجھ ناچیز کے خیال میں اس وقت ہمیں بھارت کے ساتھ کم اور ایک دوسرے کے ساتھ مذاکرات کی زیادہ ضرورت ہے۔ بشکریہ جنگ
|