نائن الیون کے بعد امریکہ میں گزشتہ 10 سالوں میں دہشت گردی کا ایک واقعہ بھی نہیں ہوا جبکہ پاکستان میں سینکڑوں واقعات، سانحات اور حادثات ہو چکے ہیں جن میں ہزاروں لوگ اپنی قیمتی زندگیاں اور قیمتی اعضاءسے محروم ہو گئے۔
جنرل ضیاءالحق کے دور میں روس کے خلاف جب افغانستان میں جہاد ہو رہاتھا تو یہاں پاکستان میں بم دھماکے ہوتے تھے۔ فلسطین کے مجاہد لیڈر شیخ عبداللہ عزام اپنے دو بیٹوں کے ہمراہ ایسے ہی ایک بم دھماکے میں اپنے اللہ سے جا ملے۔ لاہور میں اہل حدیث کے قائدین علامہ احسان الٰہی ظہیر اور مولانا حبیب الرحمن یزدانی کے جلسے میں بم دھماکہ ہوا، یہ کسی مذہبی جماعت کے جلسے میں پہلا دھماکہ تھا۔ اس دھماکے میں دونوں لیڈروں سمیت کئی لوگ اپنے اللہ سے جا ملے۔
نائن الیون کے بعد کراچی میں جماعة الدعوة کے جلسے میں دھماکہ ہوا، کئی لوگ اپنے اللہ سے جا ملے۔ کراچی ہی میں سنی تحریک کے جلسے میں دھماکہ ہوا۔ پوری قیادت اس دنیا سے اگلی دنیا میں چلی گئی۔ پیپلز پارٹی کے جلسوں میں دھماکے ہوئے۔ ان کی قائد سمیت سینکڑوں لوگ اگلے جہان چلے گئے۔جماعت اسلامی کے جلسے میں دھماکہ ہوا، کتنے ہی لوگ اپنے مولا سے جا ملے۔ اہل سنت دیوبند کے کتنے ہی لیڈر اور عوام ان دھماکوں میں اپنے اللہ سے جا ملے۔ اہل تشیع حضرات کے کتنے ہی لوگ ان دھماکوں میں اپنے اللہ کے پاس چلے گئے۔ فوج کی مسجد میں فائرنگ ہوئی، دھماکے ہوئے، وہ بھی اور پولیس والے بھی کتنے ہی اپنے اللہ سے جا ملے۔ مارکیٹوں میں بم دھماکے ہوئے، عام لوگ کتنی ہی تعداد میں اپنے رب سے جا ملے۔ مسلم لیگ ن کے کئی لوگ ان دھماکوں میں اپنے مولا کے پاس چلے گئے۔ اے این پی کے کتنے لوگ ان دھماکوں میں اپنے رب سے جا ملے۔ کراچی کی ساری جماعتوں کے کتنے ہی لوگ دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ میں اپنے اللہ سے جا ملے۔ الغرض! اس قتل عام میں سب ہی زخمی ہیں، سب کے دل رنجیدہ ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ سانحہ لاہور کے بعد حسب معمول ہم بغیر تحقیق کے ایک دوسرے پر الزامات عائد کئے جا رہے ہیںحقیقت یہ ہے کہ سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے لیڈروں کے وہ بیانات جو بغیر تحقیق کے ہوتے ہیں اور محض دشمنی اور تعصب کا شاخسانہ ہوتے ہیں، ان کو پاکستان کے لوگ اگر سنجیدہ طریقے سے لیتے تو آج (اللہ نہ کرے) پاکستان کے گلی گلی کوچے کوچے میں خانہ جنگی ہوتی۔ مگر بحمدللہ ایسا نہیں ہے اور نہ ایسا ہو گا ان شاءاللہ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملت اسلامیہ پاکستان کے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم مسلمان اور پاکستانی ہیں اور ہمارے ہاں دہشت گردی کا آغاز اس وقت سے ہواجب روس کے ایجنٹ یہاں ایسی حرکتیں کرتے تھے اور اب روس کی جگہ پر امریکہ بھارت اور ناٹو کے ممالک افغانستان میں ہیں۔ لہٰذا یہ ساری دہشت گردی ان کی وجہ سے ہے۔ کس قدر رونے کا مقام ہے کہ جن کی وجہ سے دہشت گردی جاری ہے ان کا ہمارے لوگ نام نہیں لیتے اور باہم ایک دوسرے پر الزامات لگائے جا رہے ہیں۔
محترم قارئین:آپ ملک میں جاری دہشت گردی کے حوالے سے کیا کہیں گے،مساجد،مدارس،جی ایچ کیو،حکومتی اداروں،امام بارگاہوں،بازاروں،تعلیمی اداروں غرض ملک میں ہونے والی دہشت گردی میں کون ملوث ہے دہشت گردی کی اس لہر کو کیسے روکا جا سکتا ہے آپ اپنے مختصر پیغامات اپنے نام اور شہر کے نام کے ساتھ
یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے
یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے
پر ای میل کریں یا 03214095391پر ایس ایم ایس کریں آپ کا پیغام یہاں پر شائع کیا جائے گا۔