گستاخ ملالئی کی سچی باتیں چھاپیے ای میل
جمعرات, 22 جولائی 2010 11:01
حامد میر
کیا ہیلری کلنٹن جانتی ہیں کہ ملالئی جویا کون ہے؟ ملالئی نئے افغانستان کی آواز ہے۔ وہ افغانستان جو طالبان ، شمالی اتحاد اور حامد کرزئی کو اپنے مسائل کا حل نہیں سمجھتا اور وہ افغانستان جو اپنی سرزمین پر امریکی فوج کی موجودگی میں خود کو غلام تصور کرتا ہے۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ امریکی دانشور نوم چومسکی نے بالکل درست کہا تھا کہ نوبل امن انعام کا مستحق بارک اوبامہ نہیں بلکہ ملالئی جویا تھی۔ چومسکی نے یہ اس لئے کہا کیونکہ ملالئی نے امن کے دشمنوں کے ہاتھوں جتنی تکالیف اٹھائی ہیں، اوبامہ ان تکالیف کا تصور کرلیں تو ان کے رونگھٹے کھڑے ہوجائیں گے۔ ملالئی جویا افغان عورتوں کے عزم و ہمت اور بہادری کی علامت بن چکی ہے لیکن شاید ہیلری کلنٹن اس بہادر افغان عورت سے ملاقات کا خطرہ مول نہیں لے سکتیں کیونکہ ایسی صورت میں ایک طرف شمالی اتحاد امریکہ کے خلاف بغاوت کرسکتا ہے اور دوسری طرف طالبان کرزئی حکومت کے ساتھ اپنے مذاکرات ختم کردیں گے۔ شمالی اتحاد اور طالبان دونوں ملا لئی جویا کو واجب القتل سمجھتے ہیں۔ یہ 32سالہ خاتون 2005ء میں افغان صوبے فراح سے پارلیمینٹ کی رکن منتخب ہوئی۔ غریب خاندان سے تعلق رکھنے والی ملالئی جویا نے عوام کے ووٹوں سے اپنے مدمقابل ایک سابق وار لارڈ کو شکست دی تو اس کی عمر صرف 26 سال تھی۔ یہ 26 سالہ خاتون پارلیمینٹ میں پہنچی تو اسے اپنے ارد گرد بہت سے وار لارڈز نظر آئے۔ کچھ وار لارڈز ایسے تھے جنہوں نے 1992ء سے 1994ء کے دوران خانہ جنگی میں افغانوں کا قتل عام کیا اور کچھ ایسے تھے جو بعد میں طالبان کے ساتھ مل گئے اور جب طالبان حکومت ختم ہوئی تو وہ کرزئی کے ساتھی بن گئے۔ ملالئی نے ان وار لارڈز کی شان میں گستاخیاں شروع کردیں۔ پارلیمینٹ کے اسپیکر یونس قانونی نے ملالئی کی زبان بندی کردی تو بہادر ملالئی نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن انٹرویوز میں اس گندگی کی نشاندہی شروع کردی جسے جمہوریت کے نام پر افغان پارلیمینٹ میں بٹھا دیا گیا تھا۔ 2007ء میں یونس قانونی نے ایک قابل اعتراض ٹی وی انٹرویو کو بنیاد بنا کر ملالئی جویا کو پارلیمینٹ سے نکال دیا۔ جس صحافی نے ملالئی کے حق میں آواز بلند کی اسے نوکری سے نکال دیا گیا۔ ملالئی پر قاتلانہ حملے شروع ہوگئے یہاں تک کہ اس کے شوہر سے کہا گیا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے ورنہ اسے قتل کردیا جائے گا۔ آخرکار ملالئی کو اپنے شوہر کے ہمراہ منظر سے غائب ہونا پڑا۔ وہ زیر زمین چلی گئی اور اس نے ایک مغربی صحافی کی مدد سے اپنی آپ بیتی لکھی جو حال ہی میں امریکہ سے شائع ہوئی ہے۔
ہیلری کلنٹن کو ملالئی جویا کی آپ بیتی ضرور پڑھنی چاہئے۔ جمہوریت اور خواتین کے حقوق کے لئے لڑنے والی ملالئی جویا افغانستان کے تمام مسائل کی وجہ اپنی سرزمین پر غیرملکی افواج کی موجودگی کو سمجھتی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ اس غیرملکی فوج نے سیاف جیسے قاتلوں کو حکمران بنا کر افغانوں کی زندگی تباہ کردی ہے۔ ملالئی لکھتی ہے کہ شمالی اتحاد کے کمانڈروں سیاف ، آیت اللہ محسنی اور سید علی جاوید کی سوچ طالبان سے مختلف نہیں۔ طالبان نے جو قوانین 1994ء میں متعارف کروائے وہ آیت اللہ محسنی نے 1992ء میں عبوری افغان حکومت کے ذریعے پیش کئے تھے۔ آیت اللہ محسنی نے حکم دیا تھا کہ عورتیں خوشبو نہ لگائیں، غیرمسلم خواتین جیسا لباس نہ پہنیں، ان کے چلنے سے آواز پیدا نہ ہو، وہ اپنے گھروں سے خاوند کی اجازت کے بغیر باہر نہ نکلیں، وہ اجنبی مردوں سے بات کریں نہ ان کی طرف دیکھیں۔ ملالئی جویا نے الزام لگایا ہے کہ ان نام نہاد اسلام پسندوں نے چار سے زائد شادیاں کر رکھی ہیں لیکن انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ غیرملکی افواج نے ایک طرف ان قاتلوں کو پارلیمینٹ میں لا بٹھایا اور دوسری طرف ”این جی او لارڈز“ پیدا کردیئے۔ ملالئی کہتی ہے کہ 2001ء کے بعد افغانستان میں اربوں ڈالر کی غیرملکی امداد آئی جو امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی ایجنٹ این جی اوز نے ہضم کرلئے۔ یہ این جی اوز غیرملکی افواج کے دلال کا کردار ادا کرتی ہیں۔ ملالئی نے ایران پر بھی سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ایک طرف امریکہ افغانوں کو خریدنے کی کوشش کرتا ہے اور دوسری طرف ایران بھی پیسے کے ذریعے افغانستان میں اپنا اثرورسوخ پھیلانے کی کوشش کرتا ہے۔ افغانستان دراصل کئی عالمی قوتوں کی جنگ کا میدان بن چکا ہے اور افغانستان میں اس وقت تک امن قائم نہیں ہوسکتا جب تک ان قوتوں کو افغانستان سے نکالا نہیں جاتا۔ ملالئی جویا کا خیال ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجوں کی آمد کے بعد افغانوں کے مسائل کم نہیں ہوئے بلکہ بڑھ گئے ہیں۔ روزانہ امریکی فوج کی بمباری سے بے گناہ اور معصوم افغان بچے اور عورتیں مارے جاتے ہیں اور ان بے گناہوں کی موت سے نئے طالبان جنم لیتے ہیں۔ملالئی نے ایک نوعمر افغان دیہاتی اسپن گل کی اپیل کو اپنی کتاب میں شائع کیا ہے۔ اسپن گل نے حامد کر زئی کے نام اپنی مختصر سی اپیل میں کہا ہے کہ ”کرزئی صاحب میں اپیل کرتا ہوں کہ امریکیوں کو افغانستان سے نکال دو ورنہ میں اپنے جسم کے ساتھ بم باندھ کر خود کو اڑا دوں گا کیونکہ امریکیوں نے جنوری 2009ء میں بمباری کر کے میرے خاندان کے 35/افراد کو مار ڈالا تھا۔“ اسپن گل کی اپیل کو اپنی سوانح عمری میں شامل کرکے ملالئی جویا نے دنیا کو ان زمینی حقائق سے روشناس کرانے کی کوشش کی ہے جو ابھی تک بڑے بڑے تجزیہ نگاروں کیلئے ایک معمہ ہیں۔ خودکش حملہ آور زیادہ تر انتقام کے جذبے سے جنم لیتے ہیں۔ اگر آپ کسی کے خاندان کو بم مار کر تباہ کریں گے تو وہ بھی آپ کو پھول نہیں دے گا وہ بھی بم باندھ کر آپ کے پاس آئے گا۔ معصوم لوگوں پر بمباری بند کئے بغیر خودکش بمباروں سے نجات ممکن نہیں اس لئے ملالئی خودکش بمباروں کے ساتھ ساتھ غیرملکی افواج کی بھی بہت بڑی ناقد ہے جن کے ظلم سے خودکش بمبار جنم لیتے ہیں۔
ملالئی کا خیال ہے کہ اچھے طالبان اور برے طالبان کوئی چیز نہیں ہوتی۔ طالبان تو صرف طالبان ہوتے ہیں اور حامد کرزئی امریکہ کی مدد سے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لاکر کچھ حاصل نہیں کرسکتے۔ جب تک امریکی فوج افغانستان میں موجود ہے افغانستان میں امن نہیں ہوسکتا۔ ملالئی کا ”گستاخانہ “ خیال ہے کہ شمالی اتحاد کے جرائم پیشہ لیڈروں کی مدد سے امریکہ ہمارے وطن میں امن قائم نہیں کرسکا تو طالبان کے مجرم لیڈروں کے ساتھ مل کر امن کیسے قائم کرے گا؟ اصل مسئلہ طالبان نہیں افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی ہے۔ امریکہ افغانستان سے نکل جائے تو نیا افغانستان طالبان کو خود سنبھال لے گا کیونکہ آج کے طالبان غیرملکی فوج کے ساتھ تو لڑ سکتے ہیں لیکن نئے افغانستان کے ساتھ نہیں لڑسکتے۔ نئے افغانستان نے جمہوریت کا ذائقہ چکھ لیا ہے اور وہ جان گیا ہے کہ ووٹ کی طاقت سے ملالئی جویا پارلیمینٹ تک پہنچ جاتی ہے اور امریکی ایجنٹوں کی سازشوں سے پارلیمینٹ سے نکال دی جاتی ہے۔ ملالئی جویا کے افغانستان کو جمہوریت چاہئے لیکن امریکی فوج نہیں چاہئے۔
بشکریہ جنگ    
 
 

آن لائن

ہمارے ہاں 10 مہمان آن لائن ہیں
بینر
بینر
بینر
بینر
بینر
بینر