|
جولائی کا مہینہ پاکستانی فضائی کمپنیوں کے لیے دوسری مرتبہ بدقسمت ثابت ہوا |
|
|
|
(خصوصی رپورٹ :۔اعجازالحق سے)۔نجی ائیرلائن کے طیارے کے اسلام آباد میں حادثے سے پاکستانی فضائی کمپنیوں کیلئے جولائی کا مہینہ دوسری مرتبہ بدقسمت ثابت ہوا ہے۔قبل ازیں 10 جولائی 2010 کوملتان سے لاہور روانہ ہونے والا قومی ائیرلائن کا فوکرطیارہ اپنی پرواز کے تھوڑی دیر بعد ملتان کے دیہی علاقے سورج میانی میں گر کر تباہ ہوگیا تھا جس سے بعض اہم شخصیات سمیت طیارے میں موجود عملے کے تین ارکان سمیت تمام 45 افراد موقع پر جاں بحق ہوگئے تھے۔گزشتہ روز کراچی سے براستہ ترکی اسلام آباد آنے والا ائیربلیو کا طیارہ مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرانے کے بعد مکمل طور پر تباہ ہوگیا جس سے 152 قیمتی جانیں ضائع ہوگئیں۔اس طرح جولائی کا مہینہ دوسری مرتبہ پاکستان کی فضائی کمپنیوں کے لیے بدقسمت ثابت ہوا۔ذراٰئع کے مطابق یہ کسی بھی پاکستانی فضائی کمپنی کا تیسرا بڑا حادثہ تھا جس میں اتنی بڑی تعداد میں جانیں ضائع ہوئیں۔جبکہ وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کی تاریخ میں سب سے بڑا فضائی حادثہ ہوا ہے۔سرکاری ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا المناک حادثہ 28 ستمبر 1992 کو نیپال ائیرپورٹ پر پی آئی اے کے طیارے کو لینڈنگ کے دوران پیش آیا جس سے عملے کے ارکان سمیت تمام 167 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔پاکستانی تاریخ کا دوسرا بڑا المناک حادثہ 26 نومبر 1979 کو پیش آیا جب پی آئی اے کا حاجیوں کو لے کر آنے والا پی آئی اے کا طیارہ پرواز سے چند منٹ بعد ہی جدہ میں ہی کریش ہوگیا اور طیارہ میں سوار تمام 156 حاجی جاں بحق ہوگئے ۔پاکستانی تاریخ کا تیسرا بڑا فضائی حادثہ گزشتہ روز ہوا جس سے طیارہ میں موجود عملہ کے افراد سمیت تمام 152 افراد جاں بحق ہوگئے۔
|