میں صبح سے ٹیلی ویژن اور انٹر نیٹ کھولے بیٹھا ہوں۔ اس افسردہ اور دلخراش خبر نے میرے دل پرگہری اداسی مسلط کردی ہے اور مجھے غم اور بیچارگی کے سمندر میں دھکیل دیا ہے ....اس غم میں ساری قوم شامل ہے ....یہ ایک قومی حادثہ ہے ....جس پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ ایئر بلو کے مسافر کراچی سے کیسے ہنستے مسکراتے اپنے گھروں سے الوداع ہوئے ہوں گے۔ کراچی کے ایر پورٹ سے اسلام آباد کا فاصلہ ہی کتنا ہے۔ جتنی دیر میں چائے سے فارغ ہوئے ہوں گے ....اسلام آباد پہنچ گئے ہوں گے ....جہاں ایر پورٹ پر ان کو لینے والے ان کا انتظار کر رہے ہوں گے۔
کسے خبر تھی کہ ایر بلو کے طیارے کے حادثے کی خبر آئے گی۔ مرگلہ کی پہاڑیاں یوں آگ اور دھوئیں سے روشن ہوں گی۔ اور جانے کتنے اس حادثے میں شہادت پائیں گے اور کتنے بچ پائیں گے ....ہمارے نصیب میں بھی کیسے کسیے حادثے ہیں۔ یہ طیارہ کراچی سے اسلام آباد کیلئے صبح سات بجکر پچاس منٹ پر روانہ ہوا تھاا پنے لینڈنگ کے وقت سے آٹھ منٹ پہلے مارگلہ کی پہاڑیوں کے قریب کوہ دامن کے بائیں جانب گہرے جنگل میں حادثے کا شکار ہوگیا۔ اس میں ایک سو چھیالیس مسافروں کے علاوہ عملے کے چھ اہلکار سوار تھے۔ اب اس حادثے پر سوگ ہوگا، جنازے اٹھیں گے ....حکومت کی جانب سے اس حادثے کی تحقیقات کی جائیں گی۔ لیکن جانے والے تو واپس نہیں آئیں گے۔ سازشوں اور حادثوں کی ماری قوم اس پر” صبر ‘ ‘ہی کرسکتی ہے۔
فائر بریگیڈ اور ایمبولینس مارگلہ پہاڑی کی سڑک پر دوڑ رہی ہیں۔ امدادی کارکن جن میں اکثریت عوام کی اپنے جذبے ہمدردی سے کچے راستے سے جہاز تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔بتایا گیا ہے کہ جس جگہ یہ واقعہ پیش آیا ہے وہاں سڑک نہیں جاتی۔ جہاز کے ٹکڑے بکھرے ہوئے ہیں اور ملبے میں آگ لگی ہوئی ہے اور امدادی کام نہایت غیر منظم طریقے سے جاری ہے ۔ملک میں اور طرح کے حادثات تو کثرت سے ہوتے ہیں۔ لیکن فضائی حادثے کم ہوئے ہیں۔ ضیاءالحق کے طیارے کے حادثے کو تو بارہ سال بیت گئے۔ جس میں پاک فوج کے جرنیلوں کی بڑی تعداد لقمہ اجل بن گئی تھی۔ اب سے پہلے زیادہ تر حادثے ”فوکر “ طیاروں کو پیش آتے رہے۔یہ کسی نجی مسافر طیارہ کمپنی کا پہلا حادثہ ہے۔ جس میں اتنی اموات ہوئی ہیں ۔اس سے قبل ہونے والے تمام حادثوں میں پی آئی اے کے طیارے ہی تباہ ہوئے ہیں۔ پاکستان میں مسافر طیاروں کی تاریخ میں دارالحکومت کی حدود میں پیش آنے والا یہ ”تیسرا حادثہ “ ہے۔
اس سے پہلے دس جولائی سنہ دو ہزار چھ میں پی آئی اے کا فوکر طیارہ ملتان ائیر پورٹ سے اڑتے ہی حادثے کا شکار ہو گیا تھا جس میں پینتالیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ایک اور پراسرارحادثہ فروری سنہ دو ہزار تین میں ہوا تھا۔ جس میں پاکستان ائیر فورس کے سربراہ مصحف علی میر اورسترہ افسران ہلاک ہوئے تھے۔ انیس سو نواسی میں گلگت میں بھی ایک فوکر طیارہ چّون مسافروں سمیت لاپتہ ہوگیا تھا جس کا آج تک کوئی نام و نشان نہیں ملا۔

انیس سو چھیاسی میں پشاور میں ایک فوکر طیارہ گرا تھا جس میں تیرہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔پاکستان پر جو گہرے زخم لگ رہے ہیں۔ اس میں ہمیں اللہ سے ”توبہ “اور ”استغفار “کرنا چاہیئے۔صدقات اور خیرات یوں بھی بلاﺅں اور مصیبت کو ٹال دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں صبر اور نماز سے مدد لینے کے لئے کہا گیا ہے۔ حکمرانوں کی بداعمالیوں کی سزا عوام بھگت رہے ہیں۔ ممتاز سماجی کارکن عبدالستار ایدھی نے بھی اس جانب توجہ دلائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک صاحب حیثیت افراد زکواة نہیں دیں گے ملک میں دہشت گردی پھیلتی رہے گی، انصاف کی فراہمی کا واحد راستہ دولت کی منصفانہ تقسیم ہے دوسری صورت میںخونی انقلاب آئے گا۔ عبدالستار ایدھی تو یہاں تک کہتے ہیں کہ غربت کے خاتمے کیلئے کسی نے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ ملک ٹیکس چوری اور زکوٰة نہ دینا رواج بن گیاہے۔یہ ساری باتیں سوچنے اور عمل کرنے کی ہیں۔ شائد اس سے ہی ہماری مشکلات دور ہوں۔اللہ ہم پر رحم فرمائے۔ آمین