|
ڈی ایچ کیو ہسپتال وہاڑی کے ڈاکٹر اور عملہ کی مبنہ غفلت زند ہ بچے کو مردہ قرار دیکر گھر بھجوادیا گھر جاکر بچہ ہو ش میں آگیا جسے ریسکیو 1122نے ہسپتال پہنچا یا جہاںپر وہ جا ں بحق ہو گیا |
|
|
|
جمعرات, 29 جولائی 2010 20:19 |
وہاڑ ی (وحید احمد بھٹی سے) ڈی ایچ کیو ہسپتال وہاڑی کے ایمر جنسی میں موجود ڈاکٹر اور عملہ کی مبنہ غفلت زند ہ بچے کو مردہ قرار دیکر گھر بھجوادیا گھر جاکر بچہ ہو ش میں آگیا جسے ریسکیو 1122نے ہسپتال پہنچا یا جہاںپر وہ جا ں بحق ہو گیا والداور اہل خانہ پر غشی کے دورے پورا علاقہ اشک بار ہو گیا ڈاکٹر کےخلاف کارروائی کا مطالبہ بتایا جاتا ہے کہ کالج ٹاﺅ ن وہاڑی کے رہائشی محمد لیاقت کا 10/11سالہ بیٹا محمد اویس کالج ٹاﺅ ن میں قائم کمیونٹی سکول میں چوتھی جماعت کا طالبعلم تھا بارش کی وجہ سے پانی کو ٹونٹی میں کرنٹ آجانے سے کرنٹ لگنے سے بے ہوش ہو گیا جسے فوری طورپر DHQہسپتا ل وہاڑی کی ایمر جنسی وارڈ میں داخل کر وا دیا گیا جہاں پر ڈیو ٹی پر موجو د ڈاکٹر زاہد فاروق اور سٹاف نے اس کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے اسکے پاﺅں وغیر ہ باند ہ کر لاش ورشاہ کے حوالے کر دی جو روتے دھوتے لاش لیکر اپنے گھر کالج ٹاﺅن آگئے تقریبا آدھے گھنٹے بعد بچے نے ھلناشروع کر دیا اور آنکھیں کھول دیں اور پیشاب کیا جس پر بچے کے والد محمد لیاقت نے ریسکیو 1122کو کال کی ریسکیو 1122کے عملہ نے بچے کو ہسپتال پہنچا یا مگر بچہ جانبرنہ ہو سکا اس بات العل محلہ نے بتایا کہ جب ہسپتال کے ڈاکٹر نے موت کی تصدیق کر دی تو بچے کو واپس گھر لایا گیا اور بچہ ہو ش میں آگیا تو اس ٹوٹکا استعمال کرتے ہوئے بچے کے جسم سے بجلی کرنٹ کا اثر زائل کرنے کےلئے بچے کو ریت میں دبا دیا گیا جسکے بعد ریسکیو 1122نے اسے ہسپتال پہنچا یا اگر بچے کو پہلے ہی جب وہ بے ہو ش تھا کو علاج معالجہ کیا جاتا اوربے ہو شی کو موت واقع ہو نے کی تصدیق نہ کی جاتی تو بچہ کی زندگی بچ سکتی تھی مگر ہسپتال کے ڈاکٹر اور عملہ نے غفلت اور لاپرواہی کا مظاہر ہ کیا اس بابت ریسکیو 1122کے عملہ نے بتایا کہ جب بچے کو ہسپتال لے کر گئے تھے تو بچے کی حالت خراب اور بے ہو ش تھا جبکہ ڈاکٹر زاہد فاروق کے مطابق بچہ وفات پا چکا تھا بچے کے والد اور اہل محلہ نے ڈاکٹر کی غفلت قرار دیتے ہوئے اسکے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔
|