پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ چھاپیے ای میل
جمعرات, 29 جولائی 2010 20:28

حامد میر  
وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ غیر ملکی ہاتھ ملک توڑنے کی سازش کر رہا ہے، بلوچستان سے ایک لاکھ آباد کاروں کو نکال دیا گیا ہے۔ بلوچستان میں پاکستان کے جھنڈے کو آگ لگائی جاتی ہے تو پارلیمینٹ اس کی مذمت کیوں نہیں کرتی ؟وزیر داخلہ کی خدمت میں بڑے احترام سے گزارش ہے کہ جناب والا! غیر ملکی ہاتھ کو ملک توڑنے کی سازش کا موقع اس وقت ملتا ہے جب حکمران عوام کی طاقت پر انحصار کرنے کی بجائے غیر ملکی قوتوں کے آلہ کار بن جاتے ہیں، جب عوام کو امن و انصاف نہیں ملتا اور جب ملک میں قانون کی بالا دستی ختم ہو جاتی ہے ۔پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ جب سے امریکی فوج افغانستان میں آئی ہے تو پاکستان کے قبائلی علاقوں کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں عسکریت پسندی شروع ہو گئی۔ آپ کے پاس ثبوت موجود ہیں کہ افغانستان کے راستے سے بھارت ہمارے ملک میں کہاں کہاں مداخلت کر رہا ہے اور آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ اب بھارت نے کیٹی بندر کے سمندری راستے سے بھی بلوچستان میں اسلحہ بھیجنا شروع کر دیا ہے لیکن آپ کی حکومت کھل کر بھارت کو بے نقاب کرنے سے کتراتی ہے کیونکہ امریکہ ناراض ہوتا ہے۔
امریکہ کہتا ہے کہ بھارت سے مت لڑو طالبان سے لڑو۔ ہم بھی بھارت سے نہیں لڑنا چاہتے لیکن جناب والا ! بھارت تو نام نہاد طالبان کے ذریعے بھی ہم سے لڑ رہا ہے۔ آپ طالبان کا نام تو لیتے ہیں لیکن بھارت کا نام نہیں لیتے بلکہ صرف” غیر ملکی ہاتھ“ کا ذکر کر کے سارا معاملہ گول کر دیتے ہیں۔آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے۔ سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے اس سیاسی مسئلے کو جنگی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی اور بزرگ بلوچ لیڈر نواب اکبر بگٹی کو قتل کروا دیا۔ بلوچستان کے حالات نواب اکبر بگٹی کے قتل کے بعد بگڑتے گئے۔ 2008ء میں نئی جمہوری حکومت قائم ہونے کے بعد نواب اکبر بگٹی کے قاتلوں کے خلاف کوئی کارروائی ہو جاتی تو شاید حالات سنبھل جاتے اور بھارت ناراض بلوچ نوجوانوں کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کی آگ پھیلانے میں کامیاب نہ ہوتا لیکن نواب اکبر بگٹی کا ایک نامزد قاتل آج بھی پاکستان کے ایک صوبے کا گورنر ہے۔ جب بلوچ نوجوان اپنے ملزموں کو بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھا دیکھتے ہیں تو ان کے دلوں میں غصے کی آگ بھڑکتی ہے اور جب دلوں میں آگ بھڑکنے لگے تو پھر قومی پرچم کا احترام باقی نہیں رہتا۔ آپ بلوچوں کو انصاف دیں، نواب اکبر بگٹی کے قاتلوں کے خلاف کارروائی کر کے دکھا دیں اور ہزاروں لاپتہ افراد میں سے صرف چند سو کو بازیاب کروا دیں تو یہی بلوچ نوجوان پاکستان کے قومی پرچم کو سلامی دیتے ہوئے نظر آئیں گے لیکن افسوس کہ پچھلے دو سال میں آپ کچھ نہ کر سکے۔ آپ کے دور حکومت میں مجرم طاقتور اور قانون کمزورہے۔
اب آپ قانون کو مضبوط بنانے کیلئے انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم کا بل پارلیمینٹ سے منظور کرانا چاہتے ہیں۔ اس بل کے ذریعے آپ پولیس کو مزید اختیارات دینا چاہتے ہیں اور لوگوں کے ٹیلی فون ٹیپ کرنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ بلوچ نوجوان آپ سے پوچھیں گے کہ کیا اس بل کی منظوری کے بعد نواب اکبر بگٹی کے قاتل گرفتار ہو ں گے ؟ کیا بلوچستان کے ہزاروں لاپتہ افراد واپس آئیں گے ؟ بلوچ قوم پرستوں کا خیال ہے کہ آپ کی حکومت پاکستان کو بچانے میں سنجیدہ نہیں بلکہ صرف اپنے آپ کو بچانے میں سنجیدہ ہے۔ میں ذاتی طور پر اس خیال سے متفق نہیں لیکن جب سے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کے بعد وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے یہ بیان دیا ہے کہ حکومت کے چار بڑے2013ء تک محفوظ ہو گئے ہیں تو نت نئی قیاس آرائیاں سامنے آ رہی ہیں ۔ جناب نصرت مرزا نے28جولائی کو ”جنگ“میں لکھا ہے کہ جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں تین سالہ توسیع کے پیچھے یہ خدشہ بھی موجود تھا کہ کہیں ریٹائرمنٹ کے بعد اعلیٰ عدلیہ انہیں کسی کیس میں طلب نہ کر لے۔ سوال یہ ہے کہ عدالتیں رحمن ملک اور بابر اعوان کو طلب کر سکتی ہیں تو کسی ریٹائرڈ جرنیل کو طلب کیوں نہیں کر سکتیں ؟ قانون سب کے لئے برابر کیوں نہیں؟ میرے پاس حکومت پاکستان کی ایک دستاویز موجود ہے جس پر وزارت داخلہ کے ڈپٹی سیکرٹری اعتزار الدین، ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر شہاب عظیم لہری اور چھ اراکین پارلیمینٹ کے دستخط موجود ہیں اور اس دستاویز میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ بلوچستان کے خضدار شہر میں ایف سی کس قانون کے تحت موجود ہے ؟ صوبائی حکومت نے ایف سی کو نہیں بلایا لیکن ایف سی ڈیڑھ سال سے کس قانون کے تحت خضدار میں موجود ہے ؟اس دستاویز میں ایف سی پر بے گناہ افراد کے ساتھ زیادتیوں کا الزام لگایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ایف سی والے کسی کو جواب دہ نہیں۔جب ایف سی بلوچستان میں پاکستان کے کسی قانون کو نہیں مانتی تو کوئی اور کیسے مانے گا ؟
آج پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ قانون کی بالادستی نظر نہیں آتی ۔ پیپلزپارٹی کے ایک ایم این اے جمشید دستی کو ایم اے اسلامیات کی جعلی ڈگری کے باعث اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دینا پڑا تو اسے انا کا مسئلہ بنا لیا گیا۔ جمشید دستی کو دوبارہ پارٹی ٹکٹ دیکردوبارہ ایم این اے بنوایا گیا ۔ اس انا پسندی اور ضد نے قانون اور اخلاق کو مذاق بنا دیا اور پھر ضد بازی میں ایک پنڈورا بکس کھل گیا اور اب تک 60سے زائد اراکین پارلیمینٹ کی ڈگریاں جعلی ثابت ہو چکی ہیں ۔ جن اراکین اسمبلی نے جعلی ڈگریاں خریدنے کی بجائے بڑھاپے میں گوہر ایوب اور عابدہ حسین کی طرح بی اے کا امتحان دیکر اصلی ڈگری حاصل کیں ان کے سیاسی مخالفین بھی انہیں عدالتوں میں گھسیٹ رہے ہیں۔ 2002ء کے انتخابات سے قبل سمیرا ملک صرف ایف اے پاس تھیں کیونکہ تھرڈ ایئر میں ان کی شادی ہو گئی تھی ۔ انتخابات سے کچھ عرصہ قبل انہوں نے بی اے کا امتحان دیا اورڈگری حاصل کرنے کے بعد خوشاب سے الیکشن میں حصہ لیا ۔ انہوں نے 71,500ووٹ حاصل کئے ۔
جبکہ ان کے مدمقابل نے 58,500ووٹ حاصل کئے۔ الیکشن میں شکست کے بعد مد مقابل نے2003ء میں ان کے خلاف الیکشن پٹیشن دائر کر دی اور ان کی ڈگری کو چیلنج کر دیا۔ یہ پٹیشن لاہور ہائی کورٹ سے مسترد ہوئی تو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دی گئی۔ 2006میں یہ پٹیشن سپریم کورٹ سے بھی مسترد ہو گئی۔ 2008میں سمیرا ملک نے دوبارہ الیکشن میں حصہ لیا تو ان کا پرانا مدمقابل ان کی ڈگری پر خاموش رہا اور اس نے کوئی اعتراض نہ کیا لیکن جب سمیرا ملک الیکشن جیت گئیں تو ان کی ڈگری کو ایشو بنا دیا گیا اور ایشو بنانے میں معروف دور کی ایک ”جنرل رانی“ انتہائی سرگرم ہے جو سمیرا ملک کی سخت مخالف ہے۔ جعلی ڈگریوں کے معاملے کو میڈیا نے کم اور سیاست دانوں کی انا پرستی نے زیادہ اچھالا ہے۔ یہ انا پرستی قانون کی بالا دستی کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے جب تک انا کے یہ بڑے بڑے بت پاش پاش نہیں ہوتے پاکستان میں قانون کی بالا دستی قائم نہیں ہو گی۔ پاکستان میں جمہوریت اور پارلیمینٹ ایک مذاق بنے رہیں گے اور غیر ملکی ہاتھ پاکستان کے خلاف آسانی سے سازشیں کرتے رہیں گے۔قانون کی بالا دستی قائم کرنی ہے تو سپریم کورٹ کے 31جولائی 2009ء کے فیصلے کی روشنی میں دو مرتبہ آئین توڑنے والے پرویز مشرف کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلایئے کیونکہ آئین توڑنے اور پاکستان کا پرچم جلانے میں کوئی فرق نہیں۔ کیا خیال ہے رحمن ملک صاحب
بشکریہ جنگ!
 
 

آن لائن

ہمارے ہاں 7 مہمان آن لائن ہیں
بینر
بینر
بینر
بینر
بینر
بینر